28 اکتوبر 2013 - 20:30
حزب اللہ کے انٹیلجنس نظام تک رسائی ممکن نہیں

حزب اللہ ایک بار پھر اسرائیل کی سیکورٹی کانفرنس بعنوان "مشرق وسطی کی اطلاعات و سلامتی" کا موضوع بحث رہی اور صہیونی ریاست نے باضابطہ طور پر اعتراف کیا کہ حزب اللہ کے انٹیلجنس نظام میں اثر و رسوخ پیدا کرنا ممکن نہيں ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی سیکورٹی کانفرنس بعنوان "مشرق وسطی کی اطلاعات و سلامتی"، "بار ایلان یونیورسٹی" سے وابستہ "بیگن ـ سادات اسٹراٹجک ریسرچ مرکز" اور قوم یہود تحقیقاتی مرکز "ارگوف" کے زیر اہتمام منعقد ہوئی اور بعض سابق و حاضر سروس صہیونی انٹیلجنس افسروں نے کانفرنس کے شرکاء سے جزبت اللہ کی انٹیلجنس قوت کے بارے میں خطاب کرتے ہوئے اعاراف کیا کہ حزب اللہ کے انٹلیجنس نظام میں داخل ہونا ممکن نہیں ہے۔لبنانی اخبار السفیر نے لکھا کہ صہیونی فوج کے خفیہ تحقیقاتی ادارے کے سابق سربراہ جنرل عاموس گیلبوع نے اپنے مضمون بعنوان "لبنان میں خفیہ معلومات کے چیلنج سنہ 1982 سے 2000 تک" کے ضمن میں لبنان میں معلومات جمع کرنے کے عمل کو بہت مشکل قرار دیا ہے اور حزب اللہ کے سامنے اسرائیل کی بےبسی کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا کہ ہمیں معلومات جمع کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور سب سے بنیادی سوال یہ تھا کہ ہمیں کس کے بارے میں معلومات جمع کرنی چاہئیں؟ دشمن کون ہے؟ اور ہمارے اہداف کیا ہیں؟ اور یہ سوالات مسلسل تبدیل ہوتے رہتے تھے اور واقعی ہم نہیں جانتے تھے کہ لبنان میں کیا واقعات رونما ہوسکتے ہیں؟ گیلبوع نے کہا کہ لبنان کی خاص صورت حال کی وجہ سے ہی اسرائیل کی خفیہ سروسز کو مختلف قسم کے مسائل کا سامنا تھا۔ ہمیں لبنان میں مسلسل سرکاری فوج کا سامنا کرنا پڑتا تھا جبکہ دوسرے ممالک میں ہمیں اس طرح کی صورت حال کا سامنا نہيں ہے اور اس وقت ہمیں غزہ میں بھی اس طرح کی بڑی مشکل کا سامنا نہيں ہے۔ ہمیں لبنان میں مختلف قسم کے فوجی اداروں کا سامنا کرنا پڑا۔ شام، ایران اور اسرائیل لبنان میں مشرق وسطی کے دوسرے فریقوں سے زيادہ مؤثر کردار ادار کرتے ہیں۔ گیلبوع نے کہا: 1980 کے عشرے کے وسط میں جنوب لبنان کی فوج تشکیل دی گئی اور ہمیں اس سوال کا سامنا تھا کہ کیا ہمیں جنوبی لبنان کی فوج کےبارے میں معلومات جمع کرنی چاہئیں؟ لیکن آخر کار ہم نے فیصلہ کیا کہ جنوبی لبنانی فوج کے بارے میں معلومات اکٹھی نہ کریں کیونکہ یہ فوج ہم سے وابستہ تھی اور ہم حتی اس فوج کے خاتمے سے کچھ عرصہ قبل تک اس کو اہمیت نہیں دیتے تھے۔گیلبوع نے مزید کہا: اسرائیل کی خفیہ سروس کو یہ اہم سوالات درپیش تھے کہ کیا حزب اللہ ایک مستقل ادارہ ہے؟ کیا یہ جماعت اپنے فیصلے خود کرتی ہے یا ایران کی پیروکار ہے اور کیا شام کی پیروی بھی کرتی ہے؟ اور کیا حزب اللہ لبنان میں بہت زيادہ مؤثر جماعت ہے؟۔ اسرائیل کو 1991 میں اس طرح کے تشویشناک سوالات کا سامنا تھا۔ اور ایک تشویشناک مسئلہ یہ تھا کہ کیا 1992 میں حزب اللہ سید عباس موسوی کو دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بنائے جانے کے بعد لبنان کی سطح پر ایک بنیادی اور فیصلہ کن کھلاڑی میں تبدیل ہوگی؟ گیلبوع کا کہنا تھا کہ حزب اللہ چند پہلو جماعت ہے، بایں معنی کہ (گیلبوع کے بقول) ایک دہشت گرد جماعت بھی ہے؛ ایک چھاپہ مار تنظیم بھی ہے اور بڑی طاقتوں کی طرح کی قوتوں اور صلاحیتوں کی مالک بھی ہے اور اچانک میناد جنگ سے لاپتہ ہوکر لوگوں کے درمیان خلط ملط ہوجاتی ہے اور انتہائی غیر معمولی خفیہ نظام کی مالک بھی ہے جس میں رسوخ کرنا ممکن نہيں ہے۔ ہمیں اپنے اہداف متعین کرنے میں مسلسل مشکلات کا سامنا تھا اور ہمیں معلوم نہ تھا کہ حزب اللہ کو بھاری نقصان پہنچانے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ سب سے بڑا مسئلہ حزب اللہ کے اراکین کے بارے میں معلومات جمع کرنے کا مسئلہ تھا۔ حزب اللہ کےبارے میں ہم نے جو معلومات اکٹھی کی تھیں وہ بھی بہت اہم تھیں اور ان معلومات کو اسرائیلی فورسز تک منتقل کرنا بہت مشکل تھا۔ "بیگن ـ سادات اسٹراٹجک ریسرچ مرکز" کے رکن "شلومو شاپیرا" نے اپنا مضمون بعنوان "اسرا‏‏ئیل کے خلاف حزب اللہ کی خفیہ کاروائیاں" کانفرنس میں پڑھ کر سنایا اور کہا: حزب اللہ جانتی ہے کہ انٹیلجنس رپورٹیں عسکری قوت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ حزب اللہ نے اپنے قیام کے ابتدائی برسوں میں ہی معلومات اکٹھی کرنے کے سلسلے میں بڑي کامیابیاں حاصل کیں۔ 1983 میں بیروت میں امریکی سفارتخانے پر حملہ ان ہی خفیہ معلوماتی رپورٹوں کی بنیاد پر انجام دیا گیا۔ امریکی سفارتخانے پر حملے کے لئے دھماکہ خیز مواد سے بھرا ہوا جو ٹرک استعمال کیا گیا وہ امریکی سفارتخانے کی گاڑیوں کے مشابہ تھا۔ یہ ٹرک اس وقت دھماکے سے پھٹ گیا جب امریکی سفارتخانے میں سی آئی کا سالانہ اجلاس ہورہا تھا۔ امریکی سفارتخانے کے اندر ہی حزب اللہ کے اپنے ذرائع موجود تھے جو سفارتخانے کی معلومات اس جماعت کو منتقل کیا کرتے تھے۔ اس حملے نے امریکی خفیہ ادارے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔شاپیرا نے کہا: حزب اللہ کے اندر ایک یونٹ "غیر ملکیوں" کے عنوان سے قائم ہے جو خاص قسم کی صلاحیتوں سے بہرہ مند ہے۔ یہ یونٹ مختلف ممالک کے مسلمانوں کو بھرتی کرتی ہے اور مختلف قسم کی کاروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اسرائیل کے بارے میں معلومات اکٹھی کرسکتی ہے۔ ان افراد کا سراغ لگانا بھی بہت مشکل ہے جنہيں حزب اللہ بھرتی کرتی ہے کیونکہ وہ مغربی ممالک کی شناختی دستاویزات لے کر لبنان کا سفر کرتے ہیں۔ شاپیرا نے کہا: حزب اللہ نے اپنے کرائے کے ایجنٹ اسرائیل کے فوجی اداروں اور پولیس میں داخل کردیئے ہیں جن کا مقصد شمالی سرحدوں کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنا نہ تھا بلکہ وہ ایران کے اسٹراٹجک مقاصد کے لئے کام کرتے تھے۔ اسرائیل کروڑوں ڈالر خرچ کرنے اور اس طرح کی متعدد کانفرنسیں منعقد کرنے، اور لامحدود وسائل کے باوجود حزب اللہ کا رقیب نہيں بن سکا ہے اور حزب اللہ اور اسلامی مزاحمت تحریک نے گذشتہ تین عشروں کے دوران اس کو بہت بھاری نقصانات پہنچائے ہیں۔ یہ کانفرنس بھی اسرائیل کی کامیابی کی علامتوں کی بجائے اس ناجائز یہودی ریاست کی ناکامی کے سگنل دنیا کو بھیج رہی ہے اور صہیونی خفیہ ادارے اس حقیقت کا اعتراف کررہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭

حقائق مان لو شام کی شکست کی توقع نہ رکھو/ سعودی عرب سیخ پا ہے

سید حسن نصراللہ کی سعودی عرب پر کھلی تنقید کا سبب

سعودیوں نے طرابلس میں بھی دہشت گرد تنظیم "الاحرار" تشکیل دی!